اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ہندوستان کی سابق وزیر اعظم اور کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے منگل کو کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹارگٹ کلنگ پر حکومت کی خاموشی غیر جانبدارانہ نہیں بلکہ 'فرض سے غفلت ہے۔ اس سے بھارت کی خارجہ پالیسی کی ساکھ اور سمت کے بارے میں سنگین شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
کانگریس کے سابق صدر نے مطالبہ کیا کہ جب پارلیمنٹ بجٹ سیشن کا دوسرا حصہ شروع ہو تو عالمی نظام کے ٹوٹنے پر سرکار کی پریشان کن خاموشی پر بغیر کسی ٹال مٹول کے کھلی بحث ہونی چاہیے۔
ایک اخبار میں شائع ایک مضمون میں گاندھی نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر اپنی اخلاقی طاقت کو "دوبارہ پانے" کی ضرورت ہے اور اس کا واضح طور پر اور پُر عزم انداز میں اظہار کرنا ہے۔ گاندھی نے کہا کہ یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو حالیہ امریکی اور اسرائیل کے ٹارگٹ حملوں میں قتل کر دیا گیا۔ جاری مذاکرات کے دوران ایک موجودہ سربراہ مملکت کا قتل آج کے بین الاقوامی رشتوں میں بڑی دراڑ ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے صدمے کے علاوہ جو بات اتنی ہی واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ ہے 'نئی دہلی کی خاموشی۔' انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے اس قتل یا ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔
آپ کا تبصرہ